چوتھا

سیٹھ رام داس جو گجرات، پنجاب کے ایک ممتاز ہندو گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ 14 اگست 1947 کے دن اچانک پھوٹنے والے تشدد و فسادات کے دوران ان کے پاس جانے کے لئے کوئی جگہ نہ تھی۔اپنی زندگیاں جانے کے خوف سے رام داس اور اس کے کنبے کے سات افراد گجرات کے ایک گاؤں کُنجاہ پہنچ گئے اور انہوں نے ایک مشہور مقامی ڈاکٹر، محمد حسین کے گھر جا کے پناہ لی۔
ڈاکٹر محمد حسین کی مدد سے انہیں نہ صرف اپنے سروں پر چھت ملی بلکہ اپنے تحفظ کا بھی یقین ہوا۔ انہوں نے سارا دن اور اپنے میزبان کے گھر کچھ نہیں کھایا تھا اور وہ کچھ کھا بھی کیسے سکتے تھے کیونکہ میزبان نے گائے کا گوشت پکایا ہوا تھا جبکہ رام داس اور اس کا خاندان مذہب میں ممانعت کی وجہ سے یہ نہیں کھا سکتے تھے۔ جیسے ہی میزبانوں کو پتہ چلا کہ ان کے مہمان کھانا کیوں نہیں کھا رہے ہیں تو انہوں نے ان کے احترام کی بنا پر اگلے 10 دن صرف سبزیاں اور دالیں پکائیں۔خود بھی کھائیں اور انہیں بھی کھلائیں۔
ڈاکٹر حسین کے بیٹے ڈاکٹر سجاد احمد اعوان جو اس وقت 11 سال کے تھے، نے تقسیم کی اس خوفناک رات کی کہانی ثبات کی ٹیم کو سنائی۔ انہوں نے بتایا کہ سیٹھ رام داس ایک کھاتے پیتے گھر سے تعلق رکھتے تھے اور برادری میں ایک بااثر شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے لیکن جب ہندوستان اور پاکستان الگ الگ ہوئے اور ہر طرف خونریزی ہوئی تو ان کے پاس محفوظ رہنے کے لئے کوئی جگہ نہ تھی۔
ایک بار جب ڈاکٹر حسین نے اپنے تمام گھر والوں کو بلایا اور اپنے آٹھ بہن بھائیوں کو اکٹھا کیا اور انہیں بتایا کہ ضرورت کے اس گھڑی میں لوگوں کو بچانے کے لئے آنا انسانیت اور قربانی کی سب سے بڑی شکل ہے قطع نظر مہمانوں کے مذہب کے۔ ڈاکٹر سجاد جو اب 86 سال کے ہو چکے ہیں انہوں نے یاد کیا کہ ڈاکٹر ہونے کے ناطے وہ انسانوں کی مدد کرنے کے تصور سے بخوبی واقف تھے۔سجاد نے وضاحت کی کہ جب تشدد اور فسادات کچھ تھمے اور زندگی معمول پر آنے لگی تو اس کے والد نے ایک دوست کے ذریعہ تانگے کا بندوبست کیا اور اپنی رفاقت میں رام داس اور اس کے کنبے کو ریلوے سٹیشن تک پہنچایا جہاں سے انہوں نے ہندوستان کا سفر کیا۔

اگست 20, 2020

انسانیت کوئی مذہب نہیں جانتی ہے: کیسے ایک ہندو خاندان نے ایک مسلمان گھر میں پناہ لی

سیٹھ رام داس جو گجرات، پنجاب کے ایک ممتاز ہندو گھرانے سے […]
اگست 11, 2020

خیبر پختونخوا میں تین ہزار سے زائد یتیم بچے پناہ کے لئے تر س رہے ہیں

خیبر پختونخوا (کے پی) کی حکومت مبینہ طور پر یتیم بچوں کے […]
جولائی 21, 2020

گھروں میں بیٹھ کر کام کرنے والی مزدور خواتین کو بے روزگار کر کے حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا

کرونا وائرس عالمی وبا نے لاکھوں انسانوں کو متاثر کیا ہے۔ان میں […]
جولائی 9, 2020

نا مانوس طریقوں سے رپورٹنگ

عمران ذاکر کراچی کے دوسرے درجے کے انگریزی اخبار میں رپورٹر کی […]
جون 22, 2020

جبری تبدیلی مذہب بلا روک ٹوک جاری ہے

جبری تبدیلی مذہب سے مراد نہ چاہتے ہوئے کسی شخص کے مذہب […]